ہر قوم ہر قبیلے کے اپنے اپنے
رسم و رواج ہو تے ہیں۔ یہ وہ باتیں ہیں جنہیں ہمارا بچہ بچی جانتا ہے یہ
تمام باتیں ہم نے اپنے نڑوں سے سیھکی ہیں اور ان پر عمل بھی کرتے ہیں۔
۱۔ پہناوے
ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا کہ
پہناوہ ایسا رکھیں جس میں پردہ ہو اورہمارا جسم بھی نمایاں نہ
ہو۔ہمارے ہاں دیہات میں رہنے والے لوگ بہت ہی سادہ زندگی بسر کر تے ہیں
۔یہا ں پر عورتوں کا لباس بہت سادہ ہے ۔دیہات میں مرد بھی شلوار قمیض
پہنتے
ہیں اور عورتیں بھی ۔ یہاں کے بزرگ لوگ تہمد اور قمیض پہنتے ہیں۔
۲۔ مہمان نوازی
یہاں کے لولوگ مہمان نواز اور پیار کرنے والے ہیں۔ دیہات کے
لوگ اپنی ساری رسومات سر انجام دیتے ہیں ۔اس طرح وہ مہمانوں کی خدمت اور
مہمان نوازی کی رسم میں ہر ایک اپنے لحاظ سے بہترین طورپر سر انجام دینے
کی کوشش کرتا ہے کہ آنے والا اسے لوگوں میں برے الفاظ میں یاد نہ کرے۔ہم
لوگ اسے اچھی خوراک اوراچھی جگہ پر بیٹھاتے ہیں تاکہ اس کے ذہن میں ہمارا
ایک خوبصورت مقام رہے ۔اگر کوئی شہر سے گاوں دیکھنے کے لیے آئے تو یہاں کے
لوگ بہت خوش ہوتے ہیں اور ان کی خوب آو بھگت کرتے ہیں اور ان کے دلوں میں
یہ خواہش ہوتی ہے کہ لوگ شہر سے ہمارے گاوں کو دیکھنے اور اس کی خوبصورت
جگوں کا نظارہ کرنے کےلیے آتے ہیں ۔شہری زندگی کا اہنا مزہ ہوتاہےلیکن
دیہاتی زندگی کی اپنی ہی دلکشیاں ہوتی ہیں ۔شہر میں ہر سہولت
موجود ہے مثلاً پانی گیس اور دیگر ضرویات زندگی کی تمام سہولتیں موجود ہیں
لیکن گاوں میں گیس نہیں تو پانی ہے لیکن جو دیہا ت میں کھلی آب وہوا ہے وہ
شہر میں نہیں ۔
۳۔رسم ورواج کے رنگ
یہاں کے لوگ اپنی رسموں کا بڑا خیال رکھتے ہیں۔ اگر کسی کے
ہاں کوئی تقریب ہو تو سب لوگ ہر گھر کے تمام افراد اکھٹے ہو جاتے پیں اور
تقریب سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ موقع سب لوگوں کے لیے خوشی کا موقع ہوتا
ہے۔ عورتیں ویسے تو اپنے مردوں کے ساتھ مل کر کام کرتیں ہیں لیکن جو
عورتیں گھر سے باہر نیں نکلتیں ان کے لیے یہ موقع بڑی خوشی کا باعث یوتا
ہے۔ جو عورتیں گھر سے باہر نہیں نکلتیں انہیں بھی اکھٹے بیھٹنے کا موقع
ملتا ہے۔
۳۔خوراک
ہمارے ہاں لوگ بہت سادہ خوراک کھاتے ہیں۔ ان کی خوراک روٹی، چاول
اور مختلف سبزیاں ہوتیں ہیں۔ یہاں کے لوگ تازہ کھانا کھاتے ہیں
کیونکہ تازہ کھانا کھانے سے ان کی صحت ٹھیک رہتی ہے۔ گاوں کے لوگ
صبح سویرے کھیتوں میں کام کرنے کے لیے چلے جاتے ہیں ۔پھر ان کی عورتیں
کھیتوں میں ان کے لیے کھانا اور لسی لاتیں ہیں۔ سردیوں کے موسم میں یہاں
کے لوگ ساگ بہت شوق سے کھاتے ہیں۔ یہاں باجرہ بھی کاشت کیا جا تا ہے۔ یہاں
کے لوگ سردیوں کے موسم میں شلجم، گوبھی اور پالک وغیرہ کھاتے پہیں اور
گرمیوں میں کدو، ٹینڈے وغیرہ کھاتے ہیں۔
۴۔رہن سہن
یہاں کے لوگ بالکل ہی سادہ گھروں میں رہتے ہیں جو کہ گارے اور
مٹی سے بنے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں اور ایکدوسرے
کے رہنے سہنے کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ یہاں کے لوگ رات کو جلدی سوتے اور
صبح جلدی اٹھتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں اور صبح صبح کھیتوں میں جا کر
خوشبو اور صبح کی دھیمی دھیمی ہوا سے بہت لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لوگ دیہات
کی نسبت شہروں میں آزاد رہتے ہیں۔ ہر عام وخاص شخص کا رہن سہن مختلف
ہوتا ہے۔ دیہات کے لوگ بہت سادہ اور پُر سکون طریقے سے زندگی گزارتے
ہیں۔ گاوں میں نہ تو گاڑیوں کا دھواں ہے اور نہ ہی شور، جبکہ
شہروں میں یہ تمام مسائل ہیں۔ اگر ہم لوگوں میں سے کسی کی لڑائی ہو جائے
تو گاوں کے بزرگ ان کا فیصلہ کرتے ہیں۔بعض اوقات اگر ان میں سے کسی
سے کوئی غلطی ہو جائےتووہ مافی مانگ لیتے ہیں اس طرح ان کے درمیان نفرت
ختم ہو جاتی ہے۔ دیہات میں لوگ ہر لحاظ سے خوشی و مسرت سے زندگی گزارتے
ہیں
۔