حضرت  جسٹس پیر کرم شاہ الازھریؒ


ہم ہیں نقیب صبح صداقت
آئے زمانہ ہمارے ساتھ چلے
تیرھویں صدی ہجری کے نصف میں وسطی پنجاب کی بستی؎؎پیر سیال؃؃رحمتہ اللہّٰ علیہ سے ایک عظیم روحانی تحریک ابھری جس نے چندہی سالوں میں لاکھوں درماندہ راہ مسافروں کیلئے روشن منزلوں کا تعین کردیا ان میں سے ایک بہت بڑی عظیم القادر ہستی مفکر اسلام ،مفسر قرآن ،بناص عصر حضرت جسٹس پیر   محمد کرم شاہ صاحب الازھریکے روپ میں ظاہرہوئی۔
ضیائے شمس ؎؎وقمر زنورمحمد است ؃؃کی مۡدس امانت آفاق عالم کی وسعتوں میں اس اندازاسےمتعارف ہوئی  کہ دریائے جہلم کے کنارے ساری ساری رات اپنے رب کریم کے ساتھ مناجات کرنے والے اس درویش کی خانقاہ کا سجادہ نشین پوری دنیامیں ضیاءالامت رحمتہ اللہّٰ علیہ کے مشہور ہوا۔ا  س درویش خدامست یعنی حضرت ضیاء الامت رحمتہ اللہّ علیہ کے دینی ،علمی،فکری اور اصلاحی کار ناموں کا عکس جمیل ہے۔

انکی زندگی علم وآگہی کی ایسی جامع کتاب تھی جسکے ہر ہر ورق پرامت مسلمہ کے امید افزا    مستقبل   کی تقدیر رقم  تھی۔
وہ پوری امت مسلمہ کیلئے سائباں رحمت تھے انکا فیضان انسانی زندگی کے سارے  شعبوں میں عام ہوا۔اور بےشمار خوش قسمت افرادنے آپکی تعلیمات کی روشنی میں اپنی زندگیاں ازسر نو مرتب کیں۔

تاریخ پیدائش:
آپکی پیدائش21رمضان المبارک1336ھ بمطابق یکم جولائی 1918؁ شب دو شنبہ بعد نماز تراویح بھیرہ شریف ضلع سرگودھامیں ہوئی۔
نام:
آپؒ کے نام کے بارے میں بھی خانقاہ حضرت امیرالسنالکیں علیہ الرحمتہ متوسلین میں بہت ساری روایات ہیں اس بارے میں حضورضیاءالامت علیہ الرحمتہ کا اپنا قول ہی صیحح ہےکہ پیر کھارا کوہستان نمک کے دامن میں ایک گاؤں ہے جو حضرت پیرمحمدکرم شاہ رحمتہ اللہّٰ علیہ المعروف ٹوپی والے کے فیضان کی وجہ سے مرجع خلائق ہےچونکہ اس جلیل القدر ہستی کے ساتھ آپکے خانوادہ کے نسبی  تعلقات   ہیں  ۔اس لئےآپکے جدامجد
حضرتپیرامیر شاہ علیہ الرحمتہ نے انہی کی نسبت سے آپ کانام  محمد کرم شاہ تجویز فرمایا آپ کا شجرہ نسب شیخ بہاؤالدین ذکریا ملتانی سے ملتا ہے۔
کنیت:

آپ کی کنیت ابو الحسنات آپ کے بڑے صاحبزادے اور موجودہ سجادہ نشین پیر محمد امین الحسنات شاہ صاحب کے نام منسوب ہے۔
تعلیمی مراحل:
تعلیم قرآن:
خاندانی روایت کے مطابق آپکی تعلیم کا آغاز قرآن کریم سے ہوا ثقہ روایت یہ ہے کہ حافظ دوست محمد صاحب سے تعلیم کا آغاز ہوا استاد صاحب انتہائی سادہ مزاج  اور نیک  طبیت تھے۔قرآن پاک  کی جلد بندی  کا کام کرکےرزق حلال کماتے تھے پوری زندگی کسی کیلئے بوجھ نہ بنے نہایت ملنسار اور خلیق تھے ایسے کامل استاد سے جس ہستی نے قرآن کی تعلیم کا آغاز کیا اسے واقعی دینوی آلائشوں سے کنارہ کش اور دینی خدمات  کے حوالے سے ضیاءالامت ہونا چائیے تھاجن اساتذہ سے قرآن کی تعلیم حاصل کی انکے نام یہ ہیں ۔
حافظ دوست محمد صاحب
حافظ مغل صا حب
حافظ بیگ صاحب
سکو ل کی تعلیم کاآغاز:

محمدیہ غوثیہ پرائمری سکول کا آغاز 1925؁ میں ہوا ۔آپ اس سکول کے پہلے طالب علم ہیں ۔ اس لحاظ سے سات سال کی عمر میں تعلیم کا آ غاز کیا  پہلے استاد کا نام ماسٹربر خودار تھا جو محمدغوثیہ  سکول میں ہیڈ ماسڑتھے۔آپ کا آبائی وطن چک رامداس تحصیل بھلوال ضلع سرگودھاہے۔ پرائمری سکول میں اس وقت چار کلاسز ہوتی تھی اس لحاظ سے اس سکول میں آپکی تعلیم کا سلسلہ 1925؁سے1929؁ تک رہا اس کے بعد آپ نے ہائی سکول میں داخلہ لیا اور 1936؁ میں گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ سےمیٹرک کا امتحان پاس کیا ہائی سکول میں تعلیم دوران جن اساتذہ سے اکتساب فیض کیا انکے اسمائے گرامی یہ ہیں محترم چوہدری ظفر احمد صاحب،محترم چوہدری جہادادصاحب ،محترم فرمان شاہ صاحب،محترم قاضی صدیق صاحب اورمحترم شیخ خورشید احمد صاحب ہیں یہ وہ اساتذہ  ہیں جنکےاثرات آپکی طبیت پر گہرے ہیں ۔   
علوم عربیہ ودینیہ مرحلہ وار:
حضورضیاءالامت رحمتہ اللہّٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت مولانا محمد قاسم بالا کاٹی سےفارسی کتب کریما،پندنامہ،مصدرفیوض اور نام حق پڑھیں اور فارسی زبان میں عبور حاصل کیا۔
عربی گرائمر:
صرف کے مختلف رسائل یعنی صرف مکمل اور بخوکافیہ تک۔مولانامحمدقاسم بالاکوٹی کے بعد مولانا عبدا  لمجید   صاحب ساکن کٹھیالہ شیخاں سے الفیہ ، شرح جامی ، منطق کے رسا ئل ، قطبی میر قطبی میبزی،ملاحن اور سنجانی ۔جیسی کتابیں پڑھیں تھیں ۔یہ پ  یریڈدو سال کا ہے لیکن آپؒ کی حصول علم کی تشنگی باقی رہی ۔اس کے بعد آپؒ حضرت مولانا غلام محمودصاحب ساکن پیلاں تشریف لائے بقول ضیاء الامت علیہ الر حمتہ آپ کوئی سبق بغیر مطالعہ کے نہیں پڑھاتے تھے۔ہرہر لفظ کی تحقیق فرماتےتھے آپ انتہائی سادہ مزاج تھے آپ ایک سال قیام پزیر رہے اور مندرجہ ذیل کتب پڑ ھا ئیں 


ادب میں:حماسہ،متنبیّ۔
فقہ میں:ہد ایہ شریف۔
معقو لات میں:ریا ضی،عسکر،ربیع المجید،فلکیات،علم عروض۔
پھر آپ مو ہڑہ کد لتھی تشریف لے گئے اور وہاں مو ہڑہ کد لتھی کے عا لم دین مو لا نا قا ضی ثناء اللہّ صاحب کے پاس صرف و نحو کی دہرائی  کے لئے حا  ضر ہو ئے۔