مولانا حاجی عبدالعزیز ملک




بِسم اللہِ الرّحمٰنِ الرّحِیم
سماجی شخصیت چک 88 جنوبی سرگودھا
تعارف
مولانا حاجی عبدالعزیز ملک جو کہ شہر میانوالی کے نامور شخص تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے سیاسی سماجی اور ازدواجی  زندگی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔  

پیدائش



مولانا حکیم حافظ حاجی عبدالعزیز ۱۹۱۴ء میں ضلع میانوالی کےایک پسماندہ گاؤں پکہ گھنجیرہ میں ملک عثمان کے گھر پیدا ہوئے آپ تین بھائیوں میں منجھلے تھے ۔اور والدین اور بھائیوں کو بہت پیارےتھے ۔ ابھی سات سال کی عمر کو پہنچےتو والدہ محترمہ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ 2 سال کے بعدوالد نے دوسری شادی کی آپ کی سوتیلی والدہ نے خلافِ روایت آپ تینوں بھائیوؓں کی پرورش اپنے بچوں کی طرح کی۔ 12 سال کی عمر کو پھنچے تو والد محترم نے رواج کے مطابق آپ کو گائیوں کا ریوڑ چرانے کی ذمہ داری سونپی۔ اور آپ کے بڑے بھائی کو کھیتی باڑی کے کام پر لگا دیا۔ پہلے چند ماہ آپ نے بہت شوق سے یہ کام سر انجام دیا۔

ابتدائی تعلیم

 مگر قدرت نے آپ سے جو کام لینا تھا اُس کی تیاری کا وقت آن پہنچا۔ واقعہ ایسے ہوا کہ آپ گاؤؓں میں ایک رات مہفل شبینہ منعقد ہوئی۔ ایک حافظ صاحب نے جب قرآن پاک پڑھنا شروع کیا تو اس نوجوان پر عجیب کیفیت طاری ہوتی گئی جب تک وہ حافظ صاحب قرآن پڑھتے رہے آپ مسجد میں بیٹھ کر توجہ سے سنتے رہے جب حافظ صاحب اپنے حصّے کی منزل پڑھ کر باہر آئے تو آپ نے حافظ صاحب سے پو چھا کہ آپ نے قرآن کہاں سے پڑھا ہے۔مجھےمدرسے اور استاد محترم کا نام بتادیں۔ حافظ صاحب نے پوچھا کہ تم نام پوچھ کر کیا کرو گے۔
عرض کی میں قرآن حفظ کرنا چاہتا ہوں حافظ صاحب نے شمال کی طرف دور پہاڑوؓں کی طرف انگلی کا اشارہ کیا اور کہا کہ اِن پہاڑوں کے پیچھے ایک گاؤں ہے۔ وہاں قرآن پڑھانے کا مدرسہ ہے وہاں اُستاد صاحب قرآن حفظ کرواتے ہیں۔آپ حافظ صاحب سے مدرسہ اور گاؤں کا نام پوچھ کر گھر آگئے۔ مگر ساری رات نیند نہ آئی۔صبح حسبِ معمول ریوڑ لیکر جنگل کا رُخ کیا جب دوپہر کا وقت ہوا تو جانور درختوں کے نیچے بیٹھ گئے اور آپ اللہ کا نام لیکر شمال کی طرف چل پڑے
12 سال کی عمر اور بیابان علاقہ اور گرمی کی شدّت مگر جو آگ سینے میں سلگ چکی تھی۔ اُس کو بجھانےکیلیے آپ بے خطر انجانی منزل کی طرف بڑھتے رہے عشاء کی نماز تک آپ پہاڑوں کے پار پہنچ چکے تھے۔ مگر حالت یہ تھی کہ تلووں سے خون رس رہا تھا۔ اوربھوک اور پیاس کی شدّت سے نڈھال ہو چکے تھے۔ پہاڑ کی اترائی میں ایک بندہ خدا نے آپ کو پانی پلایا اور منزل کی نشان دہی کی بحرحال آپ گرتے پڑتے رات کے کسی حصہ میں منزل پر پہنچ گئے۔