میرا گاؤں جلہ بالا




اسم گرامی

اس کا نام جلہ بالا تتھا جس کی وجہ یہ ہے کہ اس گاؤ ں میں عر صہ قد یم میں ایک بزرگ نام جلہ خان ر ہتا تھا جو پہلے پہلے اس گاؤ ں میں آ  کرآ باد ہوا تھا اور اسی کے نام سے اس گاؤ ں کا نام مشہور ہو گیا پہلے فقط لفظ جلہ تھا اور پھر ساہیوال جو سر گو دھا ضلع کی تحصیل ہے اور اس گاؤ ں کے شمال کی جا نب میں واقع ہے اور پھر ساہیوال کی جا نب کے شمال کی جا نب میں ایک اور گاؤ ں جلہ کے نام سے مشہور ہو گیا تو پھر ان دو نو ں گاؤ ں کا نام جلہ ہو گیا تو ان میں افتر     ق کرنا    مشکل تھا تو پھر ہمارا گاؤ ں جو ہے وہ سا ہیوال سے بالائی سطح کی جا نب واقع تھا تو اس کو جلہ بالا کا نام دیا گیا

تعارف وتاریخ

ہمارا گاؤ ں اطراف کے علا قو ں کی نسبت بہت ہی بڑا ہے اور ہمارا گاؤ ں ایک بہت بڑی آ بادی پر مشتمل ہے ایک تحمینہ لا گت کے مطا بق اس کی آبادی تقر یباًچار ہزار سے چھ ہزار تک ہے اور ہمارا گاؤ ں گر د نو اع کے علا قو ں کی نسبت بہت ہی قد یمی ہےملک پا کستا ن میں کچھ ہندو ں آباد تھے اور کچھ سکھ اور دیگر مذ ہب کے لو گ یہا ں پر زندگی کر تے تھے اور ان کے ساتھ مسلمان بھی زندگی گز ارتے تھے لیکن جب 14 اگست 1947 میں پا کستان ملک معرض وجو د میں
آیا تو ہندواور سکھ اور باقی مذا ہب یہا ں سے نقل مکا نی کر گئے ہندو ملک ہندو ستان ملک میں چلے گئے اور باقی مذ ہب بھی پا کستا ن کو چھو ڑ کر چلے گئے اور باقی صر ف مسلمان بچ گئے اور ہندو ستا ن سے کچھ لو گ ہجر ت کر کے یہا ں پا کستان میں آ کر آ با د ہو ئے تو کچھ لو گ ہمارے گا ؤ ں میں بھی آ باد ہو گئے جن کی
تحمینہ لا گت تقر یباً ایک ہزا ر کو پہنچی ہو ئی ہے وہ لو گ شروع شروع میں وہ لوگ غر یب و تنگ دست تھے اور اپنا سا را مال و دو لت دین کی خاطر قر با ن کر کے  آزادی کی خاطر پا کستان میں آ گئے تو مسلمانو ں نے بھرا ان کے سا تھ اچھا سلو ک کیا اور ان کو اپنی زمینیں کا شت کر نے کےلیے دیں اور کارو بار کرنے کی سہولیات فراہم کیں اور ان کی ہر طر ح سے مالی امداد کی اور ان کے جوانو ں کو ملازمت کی سہولتیں فراہم کی انھوں نے اللہ تعالی ٖ کی خاطر اپنے  مال و دولت کو قربان کیا تو اللہ تعالی نے بھی انہیں بے سہارا نہیں  چھوڑا اور مسلمانوں ہی کے ذریعے اور وسیلے سے ان کی امداد کی اس سے ہم تمام مسلمانوں کو  معلوم ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالی کی خاطر اپنے اپنے مال و دولت کو قر بان کر یں تو اللہ تعا لی ہی کسی نہ کسی طر یقے سے ان لو گو ں کی مدد کر تا ہے کیو نکہ اللہ تعالی نے بعض مقا مات پر فر مایا ہے کہ
تم میری مدد کرو میں تمہا ری مدد کرو ں گا یہ اور بات ہے کہ ہم جو اللہ تعا لی سے مدد مانگتے ہے اس کا انداز اور ہو تا ہے کیو نکہ ہم مخلو ق ہے اور جو خدا کی مدد ہوتی ہے اس کا انداز کچھ اور ہو تا ہے کیو نکہ وہ خا لق کا ئنات ہے ہماری مدد اس کے مقا بلے میں کچھ بھی نہیں  ہے اس مدد کے ضمن میں کسی شا عر نے    یوں کہا ہے کہ
کرو مہر بانی تم اہل زمین پر
خدا مہر بان ہو گا عر ش بریں پر
اس لیے ہمارے گاؤ ں والے بھی لو گو ں پر مہر با ن ہیں اور مسلمانوں کی مدد کر تے ہیں  
میر ی دعا ہے کہ میرا گاؤ ں ہمیشہ قائم رہے اور تر قی کر تا رہے
آمین
میرے گاؤں کے اگلے صفحات پر جانے کے لیے نیچے دیئے گئے ربط پر کلک کریں

آ ب ہوا اور محل وقوع
سیا سی پس منظر
جنگلی حیات
مقا می فصلیں
مقدس مزاریں
اپنا تعارف