عورت
عورت
اس کائنات کا جمال و شاھکار اور
دلکش وجود ھے جس کے دم سے زندگی قائم ھے عورت کے بغیر نسل انسانی کا
استحکام اور نشو ونما نا
ممکن ھے بقائے حیات
معاشرے کا قیام روحانی و جسمانی آدسودگی عورت
کے ھی سبب ھے۔
مگر صدا افسوس کہ صنف نازک کی اس
اھمیت سے چشم پوشی برت کر اسےظلم و لقدی
کا نشا نہ بنایا جاتا ہے۔
گھریلو تشدد سنگین مقامی مسئلہ ہے بے جا پا بند یاں ،مار پیٹ ،بنیا دی
ضروریات کی غیر فرا ہمی ، ذہنی تشدد جیسے جانفر سا پہلو ؤں پر مشتمل
گھریلو تشدد انتہائی درد نا ک المہیہ ہے۔ جس کی روک تھام کےلیے خاطر خواہ
اقدا مات نہیں کیے جا رہے۔ اس کی اہم وجو ہات میں مقا می رسوم، قدا مت
پسندی جہا لت وغیرہ شامل ہیں۔
گھریلو تشدد کی ایک اہم وجہ حقوق نسواں سے چشم پو شی ہے
جبکہ قران و حدیث میں حقوق نسواں کا بر ملا ذکر کیا گیا ارشا دنبویﷺ
ہے۔
عور توں کے با رے میں خدا سے ڈرو کہ وہ تمہارے بس میں ہیں۔
مسلم
جدید ترقی یا فتہ اقوا م
کے مطا لعہ سے پتا چلتا ہے کہ وہاں عو ر توں کو مر دوں کے برابر حقوق
فراہم کیے جاتے ہیں اقوام متحدہ چارٹرترقی پذیری کا اصل باعث، غضب
حقوق نسواں ھی ھے۔
پاکستان کی ترقی میں ایک بڑی روکاوٹ"تعلیم نسواں" کی کمی بھی ھے جبکہ
اسلام زن و مرد دونوں کے لیے تعلیم کو یکساں طور پر فرض قرار دیتا ھے
عورت کی تعلیم پورے خاندان کی تعلیم ھے تعلیم یافتہ عورتیں مختلف عھدوں پر
فائز معاشرے کی ترقی میں موئثر کردار ادا کر رھی ھیں
عورت کی معاشرتی اھمیت سے انکار نھیں کیا جا سکتا وہ معاشرے کی
تعمیر و تشکیل میں اھم مقام رکھتی ھے اور ثقافتی ، اقتصادی،
تعلیمی، اخلاقی، مذھبی غرضیکہ معاشرے کے ھر پھلو عورت کے معاشرتی کردار پر
منفی اثرات مرتب کیے ھیں ۲۰۰۲ میں سنٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں، لوکل
کونسلوں میں عورتوں کے معاشرتی وقار کو بحال کر کے مطلوبہ ترقی حاصل کی جا
سکے گی۔
Sofia.kudlathi@gmail.com