![]() |
![]() |
![]() |
![]() |
بسم اللہ الرحمن الرخیم
مقامی
فصلیں
ہمارا
علاقہ بہت زرخیز ترین ہے۔ ایک سال میں ایک
ایکڑ زمین سے بعض اوقات تین چار فصلیں بھی
لی جاتی ہیں۔ فی ایکڑ پیداوار بھی بہت
بہتر ہے ہمارے علاقےمیں اہم فصلوں کی تفصیل مندرجہ زیل ہے۔
ہمارے
علاقےکی اہم ترین فصلوں کی اقسام۔
(۱)
گندم۔
گندم
ہماری اہم ترین فصل ہے۔ لیکن ہمارے علاقے
میں گندم کی اوسط پیداوار فی ایکڑ دوسرے
ترقی یافتہ ملکوں سے زیادہ ہے۔ گندم کی
کاشت(
۱۵
)نو
مبرسے(
۱۵
)دسمبرتک
کاشت کی جاتی ہے۔ گندم کی بوائٗی چھٹا کے
زریعے کی جاتی ہے۔ اور ڈرل کے زریعے بھی
کاشت کی جاتی ہے۔ بیج کی گہرائی(
۳ )سے
(۵
)سینٹی
میٹر رکھی جاتی ہے ۔اس کو پہلا پانی(
۱۲
)سے(
۱۸)
دن
کے اندر لگا دیں۔مارچ اور اپریل میں اس
کی کٹائی کی جاتی ہے۔ اس کی پیداوار۴۰تا۶۰
من فی ایکڑ ہے۔
دھان۔
دھان
کی فصل تقریباً مئی کے آغاز سے کاشت کی جاتی ہے۔اس کو پہلا پانی لگا کر
دو تین دفہ گہرا ہل چلا کر سہاگہ پھیر دیا جاتا ہے۔ اور پانی خشک نہیں
ہونے دیا جاتا اور اس میں پنیری منتقل کر دی جاتی ہے۔یہ مئ سے لے کر اگست
تک کاشت کی جاتی ہے۔اور اس کی کٹائی اکتوبراور نومبر میں کی جاتی ہے۔ اس
کی پیداوار (۳۰ )سے ۵۰ من فی ایکڑ ہے۔
(۳)
گنا
گنا ہمارے ملک کی اہم فصل ہے۔ اس کی کاشت کے لیے تقریباً(۶۰ )سینٹی میٹر گہرا ہل چلائیں۔ ہمارے علاقے میں اس کی مختلف اقسام کاشت کی جاتی ہے ۔ اس کی کاشت ستمبر اور فروری میں کی جاتی ہے۔ اور اس کو قطاروں کے زریعے زمین میں ڈالا جاتا ہے اس کی پیداوار ۸۰۰ سے۱۰۰۰ من فی ایکڑ ہے۔
(۴)
مکئ
مکئی انسانی غذا اور مویشیوں کےلیے چارا کے طورپر استعمال ہوتی ہے۔ یہ تقریباًً(۳) ماہ میں تیار ہو جاتی ہے۔ مکئی کی فصل کےلیے بہترین زمین کا انتخاب بہت ضروری ہے۔اس میں بیج عموماًً(۸) سے( ۱۰) کلوگرام کاشت کیا جاتا ہے۔ اس کی کاشت سال میں دو دفہ کی جاتی ہے۔ اور اس کو چھٹا اور ڈرل کے زریعے کاشت کیا جاتا ہے۔ اس کی آبپاشی ایک ماہ بعد کریں اس کی پیداوار ۱۵ )سے( ۲۰ )من فی ایکڑ ہے۔
(۵)
جوار
جوار ہمارے علاقے کی ایک اہم فصل ہے۔ یہ موسم گرما میں میں کاشت کی جاتی ہے یہ جانوروں کی بہت ہی مفید خوراک ہے۔ ہمارے علاقے کے لوگ شوق سے آٹا بنا کر روٹی بھی کھاتے ہیں۔یہ اپریل سے لے کر ستمبرتک کاشت کی جاتی ہے۔ اس کو پہلا پانی ۱۵سے۲۰ دن کے اندر دیا جاتا ہے۔ اس کی پیداوار بیج اور زمین پر منحصر ہوتی ہے۔
(۶)
با
جرہ
یہ ہمارے ریتلے مقامات پر کاشت کیا
جاتا ہے۔ کیونکہ ہمارے علاقے کے لوگ شوق سے آٹا بنا کر روٹی کھاتے ہیں۔
یہ جانوروں کو چارا ڈالنے کے بھی کام آتا ہے۔ یہ اپریل سے لے کر ستمبر تک
کاشت کیا جاتا ہے۔ اس کو پہلا پانی (۱۰ )سے (۱۵ )دن کے اندر دینا چاہیے۔
اس کی پیداوار بیج پر منہصر ہوتی ہے۔
(7)
جودر
(8)
برسیم
برسیم ہمارے علاقے کی اہم ترین فصل ہے۔ یہ جانوروں کےلیے چارا کے طور پر
استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کو اکتوبر اور نومبر میں کاشت کیا جاتا ہے۔ اس کی
کاشت کےلیے زمین میں گہرا ہل چلا کر سہاگہ پھیر دیا جاتا ہے۔ اور پانی
لگا
کر چھٹا کر دیا جاتا ہے۔ اور اس کو پہلا پانی (۱۵ )سے (۲۰) دن کے اندر لگا
دیا جاتا ہے
(9)
لوسرن
لوسرن ہمارے علاقے میں بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس کو اکتوبر اور نومبر میں کاشت کیا جاتا ہے۔ اس کو کاشت کرنے کے لیے زمین میں تین چار دفہ گہرا ہل چلا کر سہاگہ پھیر دیا جاتا ہے۔اس کی کاشت کےلیے اچھی زمین کا انتخاب ہونا چاہیے۔ اور اس کو جانوروں کےلیے چارا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اس کو کاشت کرنے کےلیے زمین میں پانی لگا کر چھٹا کر دیا جاتا ہے۔ اس کو پہلا پانی (۱۲ )سے (۱۵ )دن کے اندر لگا یا جاتا ہے۔ اور یہ دو تین سال تک استعمال کیا جاتا ہے۔ سب جانور اس کو بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ اس کی پیداوار زمین اور بیج پر منہصر ہوتی ہے۔
(۱۰)
جنتر
جنتر ہمارے علاقے کی اہم ترین فصل
ہے۔ اس کو کلر والی زمین پر اگایا جاتا ہے۔ اس کے پتے گرنے سے زمین زرخیز
ہو جاتی ہے۔ اس کو وتر اور پانی میں بھی اگایا جاتا ہے۔ اس کو مئی اور جون
میں کاشت کیا جاتا ہے۔ اس کی لکڑی جلانے کے کام بھی آتی ہے۔ اور اس کو
جانور بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ اس کو پہلا پانی (۱۸) سے( ۲۰ )دن کے اندر
لگایا جاتا ہے۔اور اس کی پیداوار کا انحصار زمین پر ہوتا ہے۔
(۱۱)
سرسوں
سرسوں ہمارے علاقے میں بہت زیادہ
پائی جاتی ہے۔ اس کی کاشت اکتوبر اور نومبر میں کی جاتی ہے۔ یہ ہر قسم کی
زمین پر اگائی جاتی ہے۔ اس کی کاشت کےلیےن زمیں میں دو تین دفہ ہل چلا کر
سہاگہ پھیر دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات اس کو وتر کے زریعے بھی اگایا جاتا
ہے۔اور اس کے بعد اس کو زمین میں پانی لگا کر چھٹا کے زریعے بھی اگایابھی
جاتا ہے۔ اور یہ جانوروں کےلیے چارا کے طور پر بھی استعمال کی جاتی ہے۔
اور جانور اسے بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ اور یہ ہمارے بہت کام آتی ہے۔ اس
کی پھلیوں سے بیج نکال کر تیل نکالا جاتا ہے۔ جسے ہم سرسوں کا تیل کہتے
ہیں اور یہ جنوری اور فروری میں بہت خوبصورت پھول نکالتی ہے۔جس سے کھیت
بہت خوبصورت نظر آتے ہیں۔ اور ان کے پھولوں پر خوبصورت ننی منی تتلیاں
اور شہد کی مکھیاں نظر آتی ہیں ان کے پھولوں سے شہد کی مکھیاں رس چوس کر
شہد تیار کرتی ہیں۔جو ہماری بہت سی ضروریات کے وقت کام آتاہے۔ اور اس کی
پیداوار زمین پر منہصر ہوتی ہے
(۱۲)
کنولہ
کنولہ ہمارے علاقے میں بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ اور اس کی شکل بھی سر سوں سے ملی جلی ہوتی ہے۔ اس کی کاشت کےلیے زمین میں دو تین دفہ گہرا ہل چلایا جاتا ہے۔ اور پھر سہاگہ پھیر دیا جاتا ہے۔ اور اس کو وتر کے زریعےب اور زمین کو پانی لگا کر چھٹا کے زریعے بکیھر دیا جاتا ہے۔ اور یہ اکتوبر اور نومبر میں اگایا جاتا ہے۔ اور اس کا تیل ہمارے کھانے پکانے کے کام آتا ہے۔ یہ ہر قسم کی زمین پر اگایا جاتا ہے۔ اور اس کو پہلا پانی (۱۵)سے (۲۰) دن کے اندر لگانا ضروری ہوتا ہے۔ اور اس پر بھی پیلے رنگ کے پھول نظر آتے ہیں ۔ اور ان کے پھولوں سے پھلیاں بن کر بیج پیدا ہو جاتا ہے۔ اور اس کی کٹائی جنوری اور فروری میں کی جاتی ہے۔اور اس کی پیداوار بیج اقور زمین پر منہصر ہوتی ہے۔
(۱۳)
گوارہ
وگوارہ ہمارے علاقے کی اہم ترین فصل ہے۔ یہ زیادہ تر ریتلے مقامات پر اوگایاجاتا ہے۔ اور اس کی کاشت وتروالی زمین پر کی جاتی ہے۔ اور اس کو پہلا پانی (۱۸) تا (۲۰) دن کے اندر لگانا چاہیے اور اس کو یوریا کھاد استعمال کی جاتی ہے۔ اور یہ جولائی اور اگست میں کاشت کیا جاتا ہے۔ اور جو سب جانوروں کےلیے چارا کے طور استعمال کیا جاتا ہے۔ اور جانور اسے بڑےنشوق سے کھاتے ہیں۔ اور اس کی کٹائی جب پھلیاؕں پک کر تیار ہو جائیں تب اس کو کاٹنا ہوتا ہے۔ اور اس کی گھائی تھریشر کے زریعے کی جاتی ہے۔ اس کی پیداوار کا انہصار زمین پر ہوتا ہے۔
(14)
جؤ
یہ ہماری گندم کی طرح ملا جلا ہوتا ہے۔ اور یہ نومبر اور دسمبر میں کاشت کیا جاتا ہے۔اور اس کی بوائی کےلیے وتر کا ہونا یا پانی کے اوپر بھی چھٹا کے زریعے بکھیر دیا جاتا ہے۔ اور اس کو پہلا پانی (۲۰) تا( ۳۵ )دن کے اندر دینا ضروری ہے۔ اسے ہم بطور خوراک استمال کرتے ہیں۔ اور یہ جانوروں کو بھی کھلایا جاتا ہے۔ اور اس کے دانوں کو پیس کر آٹا بنایا جاتا ہے۔ اس کےلیے یوریا کھاد بھی کافی ہوتی ہے۔ اور یہ زیادہ تر کلر والی زمین پر اگایا جاتا ہے۔ اور اس کی کٹائی اپریل میں کی جاتی ہے۔ اور اس کی گھائی تھریشر اور کمپین کے زریعے کی جاتی ہے۔ اور اس کی کٹائی خشک وترمیں کرنی چاہیے۔ اس کی پیداوار ۴۰ تا ۵۰ من فی ایکڑ ہوتی ہے۔
مقامی فصلوں کے فوائد
اگر شہر کے ارد گرد فصلیں زیادہ ہوں تو شہر خوبصورت لگتا ہے۔ اورکچھ فصلیں چارا کے طور پر استعمال ہوتی ہیِں۔جو کہ ہم جانوروں کوکھلا کر دودھ حاصل کرتے ہیں۔ شام کے وقت اور صبح کے وقت بہت خوبصورت نظر آتی ہیں۔بعض لوگ فصلوں کو کاٹ کر گھریلوں ضروریات پوری کرتے ہیں۔ان فصلوں میں سے گندم۔دھان۔ گنا۔اہم فصلیں ہیں۔ جو کہ ہم غذا کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ہم جانوروں کو چارا ڈال کر دودھ حاصل کرتے ہیں۔ہم جانوروں کو بیچ کرملک میں گوشت کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔اور اس کے بدلے میں رقم وصول کرتے ہیں۔
ویب تکمیل کار کا تعارف
میرا نام محمد رضوان ولد نصر نواز ہے۔ میں گورنمنٹ ہائی سکول کدلتھی آڑا میں جماعت نہم کا طالب علم ہوں۔ اور دریچہ کمپیوٹر کا با قاعدہ طالب علم ہوں۔ میرے والد صاحب زمین دار ہیں ۔ میرا گھر اور زمین میرے سکول کے نزدیک ہے۔
Rizwan.kudluthi.@gmail.com