استاد کا احترام


شیخ مکتب ہے اک عمارت گر

جس کی صفت ہے روح انسانی

 استاد کا مقام۔

conam   persianblog

اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو استاد کی حثییت اہمیت اور مقام مسلم ہے۔ کہ استاد ہی نو نہالان قو م کی تعلیم وتربیت کا ضامن ہوتا ہے۔ استاد ہی قوم کے نوجوان کو علوم و فنون سے آراستہ پیراستہ کرتا اور اس قابل بناتا ہے۔ کہ وہ ملک اور قوم کی گرانبارذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو سکیں ۔ استاد جہاں نوجوانوں کی اخلاقی وروحانی تربیت کرتا ہے۔ وہاں وہ ان کی مختلف علمی سائنسی فنی اور پیشہ ورانہ مہارتوں کا سامان کرتا ہے۔ والدین بچے کی جسمانی پرورش کرتے ہیں۔ جبکہ استاد کے ذمے بچے کی روحانی تربیت ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے استاد کی حثییت اور اہمیت والدین سے کس طرح سے کم نہیں بلکہ ایک لحاظ سے ان سے بڑھ کر ہے ۔ کیونکہ روح کو جسم پر فوقیت حاصل ہے۔

قرآن کی روشنی میں۔

minhajulgutan  wordpress

اللہ تعالیٰ کی رہنمائی میں رسول اکرمﷺ استاد اور صحابہ کرم آپ ﷺ کے شاگرد ہیں۔ صحابہ نے جو کچھ رسول اکرمﷺ سے حاصل کیا ۔ اۡسے تمام تر جدوجہد کے ساتھ دوسروں تک پہنچا دیا ۔قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔

ترجمہ۔پیغمبر تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ اور تمہیں وہ سب کچھ سیکھاتا ہے۔ جو تم نہیں جانتے تھے۔

حدیث کی روشنی میں ۔

احادیث رسولﷺ میں استاد کو ایک اعلیٰ و ارفع مقام دیا گیا ہے۔ اور رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے۔یعنی،، بے شک میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔پھر ارشاد ہوتا ہے:انسان کے تین باپ ہیں ۔  

والد ،سسر اور استاد ۔ ایک اور موقع پر فرمایا : خوشامد طالب علم کے لیے استاد کے سامنے جائز ہے۔ اور کہیں جائز نہیں ۔


page2