جناب محترم  چو ہدری احمد خا ن چدھڑ

ولادت۔چوہدری احمد خان چدھڑ  ہمارے گاؤں کی مایہ ناز ہستی  ماہ رمضان المبارک کے اکیسویں روزے عصر کے وقت1940؁  میں چک 54 جنوبی کے ایک ڈیرہ چدھڑ میں پیدا ہوئے۔

ا

آپکی عمر ابھی صرف چار سال تھی کے آپ کے والدین چکنمبر54جنوبی سے ہجرت کر کے چکنمبر152

شمالی میں آ کر آباد ہوئے۔ وہاں کی زمین کے بدلے یہاں 152شمالی میں خرید لی۔

ابتدائی تعلیم۔آپ کیپیدائش کے بعد ہمارے گاؤں میں پرائمری سکول بنا۔جس میں تعلیم کا آغازشروع کیا۔اور مختلف اوقات میں پرائمری تک تعلیم استاد محمد افضل بلوچ ساکن چھبتا پختہ رائےمحمدعلی بھٹی اور استاد غلام حسین سے حاصل کی رائے محمد علی بھٹی کا تعلق ہمارے گاؤں سےتھاجو انتہائی شریف انسان تھے۔اور استاد غلام حسین کا تعلق ماضع تیتری  لغاری سے تھا۔لیکن وہملازمت کے سلسلے میں ہمارے گاؤں آ گئے تھے۔اوریہاں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ استاد غلامحسین نے پرائمری تک تعلیم مکمل کرائی اس وقت پرائمری کلاس 4جمات تک ہوتی تھی۔استاد غلام حسین ایک سخت گیر اور با اصول شخصیت کے مالک تھے۔وہ انتہائی محنت اور لگن سے اپنے شاگردوں

کو تعلیم  دیتے تھے۔ پھر آپ نے پرائمری جمات اچھے نمبروں سے پاس کر لی ۔اس کے بعد پھر آپ

نے انبالہ مسلم ہائی سکول میں پانچویں کلاس میں داخلہ لیا۔ساتویں کلاس تک یہاں  پڑھے۔ پھر

مڈل سکول سلانولی میں داخلہ لے لیا۔پھر1954؁میں سلانوالی مڈل سکول سے آٹھویں کا امتحان پاس

کیا۔پھروالد صاحب کی اجازت سےاپنی پھوپھی کے پاس چکنمبر54جنوبی چلے گئے۔وہاں تقریباَ چھ میل

کے فاصلہ پر چک نمبر34جنوبی ہائی سکول تھا۔وہاں نویں کلاس میں داخلہ لے لیا ۔آپ کے  پاس

سوار ی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔اس لیے گھوڑی پر سوار ہو کر سکول جاتے تھے۔اور1956؁میں وہاں

سے میڑک کا امتحان پاس کیا۔اس کے بعد آپ نے اپنے قریبی عزیز چوہدری شھابل خان کے ساتھ

گورنمنٹ کالج سرگودھا میں فرسٹ ایئر میں داخلہ لے لیا۔اور چوہدری شھابل خان نے فروکہ سکول

سےمیڑک کا امتحان پاس کیا تھا۔آپ دونوں نے سید محمد حسین شاہ سب انسپکٹر پولیس جو ہمارے پڑوسی

چکنمبر153شمالی کے رہائشی تھے۔اور آپ کے ساتھ ان کے خاندانی مراسم اچھے تھے۔اس لیے آپ نے ان کے مکان واقع بلاک نمبر16سرگودھا میں رہائش رکھ لی اور وہاں سے بذریعہ سائیکل  پر کالج جانا شروع کر دیا۔ ایک دن کالج سے واپس آئے تو دیکھا کہ کمرے سے  آپ کی نئی اچکن  جو آپ  نے بڑے شوق سے سلوائی تھی۔اور چوہدری شھابل خان کی جرسی؛ٹائم پیس اور کچھ چزیں غائب تھیں۔جو کوئی نا معلوم شخص کمرے کا گلی والے دروازے کا تالا توڑ کر چوری کر کے لے گیا۔چوہدری احمد خان اور چوہدری شھابل خان دونوں تھانہ سیٹی میں چوری کا پرچہ درج کروانے گئے وہاں بڑی بڑی مو نچھوں والا محرر تھانہ اپنی سیٹ پر براجمان تھا۔اس کا نام جلال خان تھا جو آج تک چوہدری احمد خان کو یاد ہے۔ محرر خان صاحب کو اپنی چوری کی داستان سنائی۔ محرر کا رویہ آپ کےساتھ ایسا تھا کہ  چوری کا پرچا کروانا دور کی بات اپنی جان چھڑانی مشکل ہو گئی ۔آپ  دونوں پریشانی کے عالم میں واپس اپنے گھر آگئے اور معاملہ خدا پر چھوڑ دیا ۔پھر چوری کا پرچہ کروانے کا نام تک نہ لیا۔یا1658؁میں ایف اے کا امتحان شروع ہوا۔دوسرا پرچہ دے کر آئےتو  آپ کو سخت بخار ہو گیا۔علاج کروایا لیکن امتحان کے دن بد ستور بیمار رہا۔اور  آپ نے ہمت نہ ہاری اور بیماری کی حالت میں تانگہ پر بیٹھ کر کالج جاتے اور پرچہ حل  کرتے۔اس طرح امتحان ختم ہو گئے اس کے بعد بھی بیس دن بیمار رہے پھر آپ کی طبیعت  کچھ سنبھل گئی۔ آپ  کو امتحان میں پاس ہونے کی کوئی امید نہ تھی۔ لیکن جب نتیجہ آیا تو خدا کے فضل وکرم سے امتحان میں کامیاب ہو گئے۔


اور خدا کا شکر ادا کیا۔




محکمہ پولیس