تعلیم نسواں



مفہوم واہمیت

تعلیم نسواں کے معنی عورتوں کی تعلیم ۔جس طرح مرد کے لیے تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے اس طرح عورت کے لیے بھی اس کا حصول لازمی ہے۔مرد اور عورت زندگی کی گاڑی دو پہئے ہیں ظاہر ہے جب تک گاڑی کے دونوں پہئے صحیح طور پر کام نہ کریں گاڑی کبھی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتی ۔کوئی معاشرہ اور قوم اس وقت تک شاہراہ ترقی پر گامزن نہیں ہو سکتی جب تک مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی زیور تعلیم سے آراستہ نہ کیا جائے ۔

حدیث نبویﷺ


رسول اکرمﷺکا ارشاد پاک ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرداور عورت پر فرض۔رسول اکرمﷺ جہاں مردو کی تعلیم و تربیت کا اہتمام فرمایا کرتے تھے وہاں حضورپاکﷺ نے ایک دن عورتوں کی تعلیم و تربیت کےلیے بھی مخصوص فرمارکھا تھا۔ حضوراکرمﷺ کی ازدواج مطہرات حضورپاکﷺسے دین کی باتیں سیکھتی تھیں اورپھر وہ دوسری مسلمان عورتوں کو یہ باتیں سکھاتی تھیں اس طرح دین کی باتیں دوسری مسلمان عورتوں تک بھی باقاعدہ پہنچتی رہی۔

ماں کی گود پہلی درسگاہ۔

 

داناؤں کا قول ہے ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہے ۔بچہ جو کچھ اس درسگاہ سے سیکھتا ہے وہ اس کی آئندہ زندگی پر بہت اثر انداز ہوتا ہے ۔بچے کی بہتر تربیت کے لیے ماں کا تعلیم یافتہ ہونا بے حدضروری ہے مفکرین کی رائے کے مطابق مرد کی تعلیم ایک فرد کی تعلیم ہے جبکہ عورت کی تعلیم ایک ؒخاندان کی تعلیم ہے ۔ فرانس کے مشہور بادشاہ نپولین کا قول ہے ۔ آپ مجھےاچھی مائیں دیں میں آپ کو بہترین قوم دوں گا۔ گویا ایک مذہب اور تعلیم یافتہ ماں ہی اپنی اولادکی صحیح تربیت کرسکتی ہے۔

گھرایک چھوٹی سی سلطنت۔



 

 

گھرکی مثال ایک چھوٹی سی سلطنت کی سی ہے ۔جس میں خاوند بادشاہ اور بیوی اس کی وزیر ہوتی ہے ۔ظاہرہے کہ بادشاہ تنہااپنی سلطنت کا انتظام نہیں چلاسکتا ۔اسے ضرور وزیر کی مدد لینی پڑتی ہے ۔بادشاہ خواہ کتنا ہی لائق  اورمنتظم کیوں نہ ہو اگر اس کا وزیر دانااور مدبر نہ ہوتو وہ سلطنت کے معاملات میں بادشاہ کو صحیح مشورہ نہیں دے سکے گا اور ایسی سلطنت بدنطمی کا شکار ہوکر رہ جائے گی اور پھر اس کا زوال یقینی ہو جائے گا۔لہذاگھریلو سلطنت کا انتظام بطریق احسن چلانے کے لیے ضروری ہےکہ عورت سلیقہ مند سمجھ دار اورتعلیم یافتہ ہو۔

page2