علم کے فا ئدے


علم ایک لا ذاوال دولت ہے یہ ایک ایسا قیمیتی سرمایہ ہے جس کا کو ئی مقابلہ نہیں کر سکتا جس کے علم ہےاس کے پاس سب کچھ  ہے بقول    شاعر

سعادت سیادت عبادت ہے علم

حکومت ہے دولت ہے طاقت ہے  علم


علم کا خزانہ

علم کے معنی ہیں  جاننا چنانچہ علم اشیا کو سمجھنے اور کسی ہنر یا فن کو سکھینے کا نام ہے علم ایک ایسا خزانہ ہے جو استعمال کرنے سے گھٹنے کی بجائے بڈھتا ہے اور جسے کوئی چھین یا چرا نہیں سکتا اس کے علاوہ دنیا کی ہر دولت کو چور چرا سکتا ہے سیلاب بہا کر لے جا سکتا ہے ڈاکو لوٹ سکتا ہے گم ہو سکتی ہے اور جل کر راکھ ہو سکتی ہے مگر علم ایک ایسا خزانہ ہے جو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ ہے کسی چاعر نے اس کے متعلق کہا ہے


دلوں میں بھرو علم کا مال وزر

نہ آتش کا خطرہ نہ چوروں کا ڈر



علم سے راہنمائی

علم ایک ایسی دولت  ہے جو زندگی میں قدم قدم پر ہمارا ساتھ دیتی ہے مشکل حالات میں ہمارے کام آتی ہے اور مصائب میں رہنمائی اور حوصلہ عطا کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا میں جتنے بھی بڈے  لوگ گزرے ہیں انھوں نے زیادہ سے زیادہ علم حاصل کیا اور کسی نے بھی دولت کو علم پر ترجیھ نہ دی

 

علم کی قدر۔

دنیا میں بڑے بڑے جابر حکمران اور نامور بادشاہ گزرے ہیں لیکن آج دنیا میں ان کے نام تک کوئی نہیں جانتا دنیا نے انہیں بہت جلد فراموش کر دیا مگر جن لوگوں نے علم حاصل کیا علم کی اشاعت کی یا علم کو کامیابی سے استعمال کر کے مفید ایجادات کیں ان کا نام آج بھی زندہ و تابندہ ہے آج مصر کے فرعونوں کے نام شاید کوئی بتا سکے مگر کون ہے جوار سطو سقراط امام خزالی رازی شیخ سعدی علامہ اقبال نیوٹن آئن سٹائن کے نامور سے آشنا نہیں یہ لوگ علم ہی کی وجہ سے زندہ جاوید نظر آتے ہیں علم ہمیں نیکی کی راہ دکھاتا ہے اور اچھائی وبرائی میں تمیز کرنا سکھاتا ہے علم ہی ایسا زیور ہے جس سے آراستہ ہو کر ہم ایسی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں جو ترقی کی ضامن بنے





علم کا خزانہ

علم کے معنی ہیں  جاننا چنانچہ علم اشیا کو سمجھنے اور کسی ہنر یا فن کو سکھینے کا نام ہے علم ایک ایسا خزانہ ہے جو استعمال کرنے سے گھٹنے کی بجائے بڈھتا ہے اور جسے کوئی چھین یا چرا نہیں سکتا اس کے علاوہ دنیا کی ہر دولت کو چور چرا سکتا ہے سیلاب بہا کر لے جا سکتا ہے ڈاکو لوٹ سکتا ہے گم ہو سکتی ہے اور جل کر راکھ ہو سکتی ہے مگر علم ایک ایسا خزانہ ہے جو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ ہے کسی چاعر نے اس کے متعلق کہا ہے

دلوں میں بھرو علم کا مال وزر

نہ آتش کا خطرہ نہ چوروں کا ڈر

علم سے راہنمائی

علم ایک ایسی دولت  ہے جو زندگی میں قدم قدم پر ہمارا ساتھ دیتی ہے مشکل حالات میں ہمارے کام آتی ہے اور مصائب میں رہنمائی اور حوصلہ عطا کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا میں جتنے بھی بڈے  لوگ گزرے ہیں انھوں نے زیادہ سے زیادہ علم حاصل کیا اور کسی نے بھی دولت کو علم پر ترجیھ نہ دی

 


علم کی قدر

دنیا میں بڑے بڑے جابر حکمران اور نامور بادشاہ گزرے ہیں لیکن آج دنیا میں ان کے نام تک کوئی نہیں جانتا دنیا نے انہیں بہت جلد فراموش کر دیا مگر جن لوگوں نے علم حاصل کیا علم کی اشاعت کی یا علم کو کامیابی سے استعمال کر کے مفید ایجادات کیں ان کا نام آج بھی زندہ و تابندہ ہے آج مصر کے فرعونوں کے نام شاید کوئی بتا سکے مگر کون ہے جوار سطو سقراط امام خزالی رازی شیخ سعدی علامہ اقبال نیوٹن آئن سٹائن کے نامور سے آشنا نہیں یہ لوگ علم ہی کی وجہ سے زندہ جاوید نظر آتے ہیں علم ہمیں نیکی کی راہ دکھاتا ہے اور اچھائی وبرائی میں تمیز کرنا سکھاتا ہے علم ہی ایسا زیور ہے جس سے آراستہ ہو کر ہم ایسی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں جو ترقی کی ضامن بنے

اگلا  صفحہ